بیلجین کمپنی کا ملازمین کی شناخت کا انوکھا تجربہ، ہاتھ میں الیکٹرانک چپ کی تنصیب 

بیلجین کمپنی کا ملازمین کی شناخت کا انوکھا تجربہ، ہاتھ میں الیکٹرانک چپ کی تنصیب 

ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی تحقیقات نے انسان کے لیے ناقابل یقین سہولیات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ہم ہالی وڈ کی فلموں کے مناظر اور سائنسی مفروضوں کی دنیا میں نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ایک ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں جس میں انسان کی شناخت روایتی شناخت کے بیجز کے استعمال کے بغیر الیکٹرانک چپ کی مدد سے لوگوں کی شناخت کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔

اگرآپ اس پر حیران ہوں تو حیرت کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ بیلجیم کی ایک کمپنی نے اپنے ملازمین کو الیکٹرانک ملازمین میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے آٹھ ملازمین کے ہاتھ کی جلد کے اندر ایک الیکٹرانک چپ کی پیوند کاری کی ہے جس کے بعد ان ملازمین کو روایتی انداز میں اپنی شناخت کرانے کی ضرورت نہیں۔ وہ کھلے عام کمپنی کے ہیڈ کوارٹر اور اس کے کمپیوٹر سسٹم تک روایتی شناخت کے بیجز کے استعمال کے بغیر پہنچ سکتے ہیں۔

جن ملازمین کے ہاتھوں میں الیکٹرانک چپ نصب کی گئی ہے وہ رایتی شناخت کے بیجز، روشنیوں، کمپیوٹر سسٹم سے رابطے یا اسمارٹ فون کے استعمال کے بغیر کمپنی کےدفاتر کے دروازے صرف دھکا دے کھول سکتے اور اندر داخل ہوسکتے ہیں۔

ہاتھ کی جلد میں نصب کی گئی چپ میں موجود معلومات ریڈیائی لہروں کی مدد سے کمپیوٹر سسٹم تک پہنچتے ہیں۔ دوسرے معنوں میں یہ چپ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، بنک اور انشورینس کے معلومات کا متبادل ہیں۔
بیلجین کمپنی کے نیو فیرگن کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ انسانی ہاتھ میں نصب چپ ایک ویب سائیٹ کی طرح ہے جسے ایک کلک کی مدد سے کھولا جاسکتا ہے۔ ماہرین جہاں الیکٹرانک چپ کو انسانی ذاتی معلومات تک رسائی کی ایک سہولت قرار دیتے ہیں وہیں اس کے بعض منفی پہلوؤں سے خبردار بھی کرتے ہیں۔