اردو کے بہترین الفاظ کی بدولت فلموں میں بلند مقام حاصل ہوا: لتامنگیشکر

اردو کے بہترین الفاظ کی بدولت فلموں میں بلند مقام حاصل ہوا: لتامنگیشکر

 مشہورومعرف گلوکارہ لتا منگیشکر نے کہاہے کہ بہتر اردوتلفظ اداکرنے کی وجہ سے انہیں فلموں میں عروج حاصل ہوسکا اور اس کے لیے وہ کے ایل سہگل ،نورجہاں اور موسیقار نوشاد علی کی گائیکی اورگفتگو کا بغور جائزہ لیتی تھیں جس نے اردوزبان کو سمجھنے میں کافی مدد کی اورصحیح تلفظ ادا کرنا ممکن ہوسکا۔

ایک انٹرویو میں ہندی فلموں کی بزرگ گلوکارہ لتا منگیشکر نے جنہوں نے موسیقی میں 75سال مکمل کرلیے ، کہاکہ انہوں نے پانچ سال کی عمر میں1942 میں مراٹھی فلم پہلی منگلا گور میں پہلی مرتبہ نغمہ گایااوراس طرح 75سال ہوچکے ہیں ۔ان کے والد دیناتھ منگیشکر نے گانے گانے پر اکسایااور ان کے کہنے پرلتا نے گانا سکھاناشروع کیاتھا۔

منگیشکرنے کہاکہ ان کے گانے پر کے ایل سہگل کے گانے کے طرز کا کافی اثر ہے اور وہ سہگل کی موسیقی کی ایک بڑی مداح ہیں اور بعد میں ان کے انداز میں گانے لگی۔’’میں سہگل صاحب جس طرح سے اردوتلفظ ادا کرتے ہیں ،وہی انداز اپنانے کی کوشش کرتی تھی،میں نوجہاں کو بھی سنتی اور ان کے انداز کو پسند کرتی تھی ، لیکن میری یہی بھی کوشش رہی کہ کسی کی نقل نہ کروں اور اپنا اسٹائل اپنا تی تھی۔‘‘

لتا منگیشکر نے اس موقع پر ماسٹر غلام حیدر،مدن موہن،جے دیو اور نوشاد علی کو بھی یاد کیا او راعتراف کیا کہ انکا بھی کافی اثر رہا۔نوشاد نے ہمیشہ اردوتلفظ پر توجہ دینے کی ہدایت کی اور ان سب نے مکمل مدد اور ساتھ دیا اور ان شخضیات سے بہت کچھ سیکھنے میں مددملی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ٹی وی پرہونے والے موسیقی شو کو وہ دیکھتی ہیں اوران سے میں کئی فن کار کافی اچھے ہیں جنہیں وہ مدعوکرتی ہیں اور البتہ اس سے بچوں کی تعلیم متاثر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ علم حاصل کرنا کافی اہمیت کا حامل ہے ،ماضی میں کم تعلیم یافتہ شخص چل جاتا تھا ،لیکن آج وقت بدل چکا ہے۔