نوٹ بندی معاملہ: ناندیڑمیں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ

نوٹ بندی معاملہ: ناندیڑمیں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ

 نوٹ بندی کا راست اثر اب کھل کر کاروباری سرگرمیوں پا دیکھا جا رہا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق ان دنوں کاروبار 60 سے 70 فیصد کم ہوگیا ہے ، جس کی وجہ سے تاجروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

پتنگ کا کاروبار بظاہر ایک چھوٹا کاروبار ہے ، لیکن سیکڑوں لوگوں کا روزگار اس پر منحصر ہے ۔ لیکن آج کل یہ کاروبار اپنے وجود کی لڑائی لڑرہا ہے ۔جب سے نوٹ بندی کا فیصلہ ہوا ہے ، لوگ پیسے پیسے کو تر س رہے ہیں ۔ بینکوں سے ملنے والی محدود رقم سے لو گ اپنی بنیادی ضرورتیں ہی پوری نہیں کرپا رہے ہیں، ایسے میں پتنگ بازی کا شوق بھلا کیسے پورا کیا جائے ۔ نتیجہ میں پتنگ کا کاروبار پچھلے سال کے مقابلہ اس سال 30 فیصد سے بھی کم ہوکر رہ گیا ہے ۔

پتنگ کے ایک تاجر محمد ایوب کے مطابق منڈیوں میں مال پڑا ہواہے ، لیکن اس کو خریدار نہیں مل رہے ہیں ۔ جو لوگ خریدنا چاہتے ہیں ، ان کے پاس نئی کرنسی نہیں ہے اور پرانی منسوخ شدہ کرنسی کوئی لینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ کاروبار پر مندی کا اثر نمایاں طورپر محسوس کیا جارہاہے ۔

ایسا ہی کچھ حال انڈوں کے کاروبار کا بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ موسم سرما کو انڈوں کی فروخت کا سیزن مانا جاتا ہے ۔عام دنوں کے مقابلہ میں موسم سرما میں لوگ انڈوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ، لیکن نوٹ بندی کی وجہ سے انڈوں کا روبار بھی متاثر ہورہا ہے ۔ قدیم شہر کے چوک میں انڈو کاروبار کر رہے تاجروں کا کہنا ہے کہ انہیں نوٹ بندی کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑرہا ہے ۔

ادھر سماج کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ کرنسی کی قلت کا مسئلہ اگر جلد حل نہیں کیا جاتا ہے ، تو شہر میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے ۔بے روزگاری سے پریشان نوجوانوںمیں مجرمانہ ذہنیت پروان چڑھ رہی ہے ۔ مرکزی حکومت نوٹ بندی کے فیصلے کولے کر بھلے ہی بہت خوش نما باتیں کررہی ہے ، لیکن زمینی حقیقت اس کے بالکل مختلف نظر آرہی ہے ۔